گزارش

دیکھ اب ایسا تو نہ کر اب تو تیری تصویر بھی پرانی ہو گئی
رکھی تھی جس جگہ تیری تصویر اب تو وہ جگہ بھی بیگانی ہو گئی
کوئی راستہ تلاش کر مجھے ملنے کا۔
جس گھڑی توں مجھے ملنے آئی تھی اب تو گھڑی بھی پرانی ہو گئی ۔۔

اب بھی مسکراتا ہوں سوچ کر جو گزرے تھے لمحات
تیرے ساتھ
دیکھ یار اب تو وہ مسکراہٹ بھی پرانی ہو گئی
نئے دور میں لوگ رکھتے ہے *رمضان* نئی سوچ بھی
پر مجھے لگتا ہے کہ تجھے لے کر میری سوج آج بھی پرانی ہو گی

This poem is about: 
Me

Comments

Need to talk?

If you ever need help or support, we trust CrisisTextline.org for people dealing with depression. Text HOME to 741741